سحر زندگی کی ۔۔۔۔ – Saher Welfare Foundation

سحر زندگی کی ۔۔۔۔

عمر ظفیر بھٹی

زندگی تو خود ایک سحر ہے ، پھر یہ زندگی کی سحر ؟؟؟ بچہ پیدا ہوتا ہے آنکھ کھولتا ہے ۔طلوع سحر چہکتی ہے ۔۔ اور جب روتا ہے تو زندگی اپنی مسکراہٹ بکھیر دیتی ہے ۔۔۔ وہاں موجود ہر چہرہ کھل اٹھتا ہے۔ فرض کریں ، یہ جھوٹ ہی سہی لیکن فرض کرتے ہیں کہ ایک شخص کا بچہ بیمار ہے ۔۔۔ وہ اسکے لیئے بھاگ دوڑ کرے گا ۔۔۔ اور یقینی بات ہے ہر کوئی کرے گا ۔ اسکو ہاسپٹل لے کر جاۓ گا ۔۔۔ ضرورت ہوئی تو بلڈ ٹیسٹ کرواۓ گا ۔ خون کی ضرورت پڑی تو ہر ممکن طریقے سے فراہمی یقینی بناۓ گا چاہے اپنا خون بیچ کر اسکے بدلے لے کر آۓ ۔۔۔۔ تو دوستو ! ایسے شخص کی اگر استطاعت نہ بھی ہو پھر بھی وہ کرے گا ۔۔۔۔اللہ پاک سب کی اولاد کو صحت عطا کرے ، اولاد کی آزمائش نہ دیکھنی پڑے کسی کو بھی – آپ لوگ کیا راۓ رکھیں گےاس شخص کے بارے میں ؟؟؟ لازمی بات ہے کہ تقریبا تمام دوست ہی ایسے شخص کو داد دیں دے ۔۔۔ اسکی ہمت اور حوصلے کو سراہا جاۓ گا کہ کس مشکل میں اپنے بچے کے لیئے بھاگ دوڑ کی ۔ فرض کریں یہ سب کام ، یہ بھاگ دوڑ وہ اگر کسی اور کے بچہ کے لیئے کرے اپنی کم استطاعت کے باوجود کسی کی اولاد کے لیئے درد رکھے ۔۔۔ اسکے لیئے خون کا انتظام کرے ۔۔۔۔ تو کیا راۓ ہو گی احباب کی ؟؟؟ سب اسکو مسیحا کا لقب دیں گے ۔۔۔ اس سے محبت کریں گے ۔۔۔ اسکی زندگی کی ہر کمی کوتاہی کو نظر انداز کر کے اس خدمت انسانی پر اسکو رول ماڈل تصور کریں گے ۔ اور اگر وہ ان دکھی ماں باپ کے بچوں کے لیئے اپنا آپ وقف کرے تو ہم سب اس کے اس جزبہ خدمت پر اسکو سلام پیش کریں گے –

فرض کریں جو کچھ کہا وہ سب سچ ہو ۔۔۔۔ فرض کریں ۔۔۔۔۔ میری اس تحریر کا سبب ہیں بچے ۔۔۔ وہ پھول سے بچے جو کہ مرجھا رہے ہیں بلڈ کینسر جیسے موذی مرض سے کہ جس کو لا علاج قرار دے دیا جاتا ہے ۔۔۔ اس بچے کی اذیت کا انداذہ ہی کر سکتے ہیں کہ جس کو ہر ماہ 1 یا 2 دفعہ بلڈ لگتا ہے ۔۔۔کچھ کو ہفتہ وار لگتا ہے ۔۔۔ اسکی نشو نما رک جاتی ہے ۔۔۔ اس پھول کو بہت سی تکالیف سے گزرنا پڑتا ہے ۔۔۔ کھانا پینا ختم ہو جاتا ہے ۔۔۔ غصہ بے تحاشہ کرتا ہے ۔۔۔ چڑچڑا پن پیدا ہو جاتا ہے ۔۔۔۔ کیا اذیت ہوتی ہے ایسے کسی بچہ کو دیکھ کر ؟؟؟ اسکی حالت کا اصل بیان بھی نہیں کرسکتے ہم ۔۔۔ اور ذرا پھر فرض کریں کہ اس والدین کی کیا حالت ہوتی ہے ۔۔۔۔؟؟ سفر کی تکلیف کہ ہر جگہ اس علاج کی سہولت بھی میسر نہیں ۔۔۔۔ اپنے ننھے پھول کو اٹھاۓ کبھی کسی جگہ کبھی کسی ہاسپٹل ۔۔۔ کبھی دم درود ۔۔۔ کبھی بابوں کے آستانے ۔۔۔ سچ ہے کہ اولاد کے لیئے انسان ہر جگہ جاتا ہے ۔۔۔۔ احباب فرض کریں ۔۔۔ کسی کو اس بچے کے والدین کی جگہ تصور کریں ۔۔۔۔ اور پھر جن کے پاس دولت کی ریل پیل ہے ۔۔۔ علاج انکے بچے کا بھی نہیں ہو پا رہا اور اگر ہو بھی جاۓ تو ۔۔۔ بہت سے صاحب استطاعت لوگوں کے بھی بس میں نہیں ۔۔۔۔ بس اتنا ہے کہ اس دولت سے انہوں نے کچھ آسانی خرید لی ہے۔۔۔ بچے کے لیئے سکوں نہیں ۔۔۔۔ یہاں بہت سے قابل ڈاکٹر حضرات موجود ہیں ۔وہ تھیلیسیلمیا میجر ، تھیلیسیمیا مائینر ۔۔۔ اور اسی طرح کی بے شمار خون کی بیماریوں سے واقف ہوں گے ۔ یہ بچوں کو ۔۔۔ ان پھولوں کو کس طرح کملاتی ہیں ۔۔۔؟؟؟؟ بچے سسکتے ہیں ۔۔۔ انکے والدین کے پاس اتنے ذرائع ہی نہیں ۔۔۔۔ بچے روتے ہیں ۔۔۔ والدین اپنی مزدوری کے اوقات بڑھا دیتے ہیں ۔۔۔۔ بچے کلبلاتے ہوۓ لمحہ بہ لمحہ موت کی وادی کی طرف بڑھتے رہتے ہیں ۔۔۔ والدین ان کے ساتھ ساتھ گھسٹتے ہوۓ موت کے گڑھے کی طرف بڑھتے جاتے ہیں ۔۔۔ اور بالآخر ۔۔۔۔ آہ ۔۔۔ انکو خود اپنے ہاتھوں اس گڑھے میں ڈال آتے ہیں ۔۔۔۔ اور وہ سحر جو روشنی بن کر پھوٹی تھی ۔۔۔۔ تاریکیوں میں جا سوئی ۔۔۔۔۔

ڈاکٹر صاحب کا بیان ہے کہ :

” میرے پاس ایک والدین آئے ۔۔۔ والد ایک مل میں مزدور ہے ۔۔۔۔۔۔ 8 یا 10 ہزار ماہانہ تنخواہ پر ۔۔۔ اسکے بچے کو بلڈ کینسر ۔۔۔۔۔ ملتان کا رہائشی ۔۔۔۔ لاہور جنرل ہاسپٹل میں بلڈ لگوانے کے لیئے بچہ لایا گیا ۔۔۔۔ انکو کہا گیا ہر 2 ہفتہ بعد بلڈ لگے گا ۔۔۔ افففف تصور کیجیئے گا ۔۔۔۔پھر کسی طرح ان کے والدین بچے کو یہاں لاۓ ، اللہ نے اپنا کرم کیا اور بچے کو بلڈ لگنا بند ہو گیا ۔۔۔ جسم نے اپنا خون ہیدا کرنا شروع کر دیا ۔۔۔ ” ذرا پھر سے فرض کیجیئے وہ شخص گھر راشن ڈالے گا ؟؟؟ بجلی کے بل ادا کرے گا ؟؟؟ بچے کو ہر ہفتہ 2 ہفتہ بعد کرایہ خرچ کر کے لائے گا ۔۔۔۔ ؟؟؟ اور پھر کوئی امید نہیں ۔۔۔۔ کوئی کرن نہیں ۔۔۔ بس موت کی طرف آہستہ آہستہ ۔۔۔۔۔۔

اللہ نے ایک شخص کو ہمت دی ۔۔۔ ہومیو پیتھک ڈاکٹر ۔۔۔۔غلام یٰسین ۔۔۔۔ ان کے بیٹے کو بلڈ کینسر ۔۔۔ ڈاکٹروں کے چکر ۔۔۔ آخر ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ۔۔۔ کہ اب آپکا بیٹا ۔۔۔ یہ ننھا پھول کچھ عرصہ کا مہمان ہے ۔۔۔۔اللہ ۔۔۔! کیا بے بسی سی بے بسی ۔۔۔۔ کسی کو کہا جاۓ تمہارا یہ چراغ بجھا چاہتا ہے ۔۔۔۔ اس کیفیت کو وہ سمجھ سکتے ہیں جن کے بچے کو کبھی ہاسپٹل جانا پڑا ۔۔۔ اللہ سب پر اپنی رحمت کرے آمین۔ اللہ کسی کے بچے کو تکلیف نہ دے ۔آمین ڈاکٹر صاحب نے اللہ سے دعا کی اور اس کا علاج شروع کیا ۔۔۔۔ اللہ نے اپنا کرم کیا اور بچہ صحت یاب ہو گیا ۔۔۔۔آج وہ بچہ ہنستا کھیلتا اسکول جاتا ہے ۔۔۔ یہ شائد ایک لمحہ تھا ۔۔۔ جس نے ڈاکٹر صاحب کی سوچ بدل دی ۔۔۔ کہ یہ میرا بچہ تھا ۔۔۔ سب کو اپنے بچے اتنے ہی پیارے ہوتے ہیں ۔۔۔۔ انہوں نے قدم اٹھایا ۔۔۔۔ ان بچوں کے لیئے کہ جن کو کینسر نگل رہا تھا ۔۔۔۔ اور پھر سحر کی بنیاد رکھی ۔۔۔۔ سحر فاؤنڈیشن ۔۔۔۔ ان بچوں کے لیئے سحر جن کو موت کا انتظار کرنے کا کہا گیا ۔۔۔ ان والدین کے لیئے ایک سحر کی کرن جن کے پھول مر جھا رہے ہیں ۔۔۔۔ کوئی بچہ یتیم ہے ۔۔۔ تو کوئی اتنا پسماندہ حال کہ ۔۔۔۔ وہ لوگ اپنے بچوں کو اور آنسوؤں کو لے کر آتے ہیں ۔۔۔۔ اور جاتے ہوۓ ۔۔۔ صرف دعائیں ۔۔۔ انکے لیئے صرف ۔۔۔ اور ہمارے لیئے کل حاصل ۔۔۔ کسی کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھیں تو کیا سکون آتا ہے ۔۔۔ الفاظ بیان سے قاصر ہیں ۔۔۔۔ میں ذاتی طور پر اس آرگنائیزیشن کا ادنٰی سا حصہ ہوں ۔۔۔ میں ذاتی طور پر ان بچوں کو جانتا ہوں جو الحمد للہ بلکل ٹھیک ہو کر گئے۔۔۔ اور ٹھیک ہو رہے ہیں ۔۔۔۔ سحر ایک امید کی کرن بن کر ابھری ۔۔۔ بہت سے لوگ شامل ہوئے ایک چھوٹی سی ٹیم بن گئی۔۔۔

اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل
ہمسفر ملتے گئے کارواں بنتے

ہر ماہ کے لاسٹ سنڈے کو ان بچوں کے لیئے فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔۔۔ اب تک تقریبا 68 کیمپس کا انعقاد کیا جا چکا ہے ۔۔۔ جہاں پورے پاکستان سے بچے آتے ہیں ۔۔۔۔ 130 مریض رجسٹرڈ ہیں اس وقت جن کا علاج ہو رہا ہے ۔۔۔ دور دراز سے آنے والے مریضوں اور ان کے والدین کے لیئے سحر کی طرف سے کھانے کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے ۔ بچوں کے لیئے کبھی کبھی مختلف کھلونوں یا گفٹس کا بھی اہتمام ہوتا ہے ۔ لاہور میں کیمپ کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔۔۔ بہت سے احباب ہومیو پیتھی سے مطمئن نہیں ہوں گے ۔۔۔ لیکن ہمارے طرف سے دعوت ہے آپ لوگ آئیں ۔ دیکھیں ۔۔۔ ہومیو پیتھی میں علاج ہے ۔۔۔ الحمد للہ ہم نے اپنی آنکھوں سے ان مریضوں کو صحت یاب ہوتے دیکھا جن کو مستند ڈاکٹرز ریجیکٹ کر چکے تھے ۔۔۔۔۔

اللہ پاک کچھ لوگوں پر اپنی رحمت کر دیتا ہے ۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحب کو کسی دنیاوی فائدہ کی ضرورت نہیں کیونکہ ۔۔۔۔ کیمپ کے الاوہ عام دنوں میں ۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحب ایک مہنگے ڈاکٹر ہیں ۔۔۔ انکے مریضوں میں بہت صاحب حیثیت لوگ ہیں ۔۔۔ ان بچوں کو اپنا بچہ سمجھ کر ۔۔۔ اس قوم کے بچے سمجھ کرایک کاوش کی ۔۔۔۔ ان بچوں کے لیئے زکوٰۃ فنڈ بنایا گیاجس سے علاج کیا جاتا ہے ۔۔۔ انکا جو ترستے ہیں ۔۔۔ ایک ایک لقمے کے لیئے ۔۔۔ یہ میرے بچے ہیں ۔۔۔ یہ آپکے بچے ہیں ۔۔۔ آئیں ہمارے اس کام کو دیکھیں سمجھیں ۔۔۔ ان بچوں سے ملیئے ۔۔۔ سحر کی طرف سے آپ احباب کو دعوت ہے ۔۔۔۔ اس کے الاوہ اگر اللہ نہ کرے کسی مریض کو مسئلہ ہو تو ڈاکٹر صاحب سے ملیں ۔۔۔۔

۔آخر میں گزارش ہے کہ جو ڈاکٹر صاحبان ہیں وہ دیکھیں ۔۔۔ اسکے مقصد کو سجھیں اور اگر کسی کا بھی وزٹ کا پروگرام ہو تو آئیے۔۔۔ سب احباب سے بھی درخواست ہے کہ کوئی ایسا مریض ہو تو اسکو ضرور بتائیے ۔۔۔ ہمارے پاس الحمد للہ ، کامیاب بچوں کے کیسز ہیں ۔۔۔ جو سحر سے شفا یاب ہوۓ۔۔۔ یہ بچے آپکے ہیں ۔۔ اس قوم کا مستقبل ہیں ۔۔۔۔ کچھ تصاویر اور اپلوڈ کر رہا ہوں ۔ احباب سے گزارش ہے کہ اپنی مصروفیات سے کچھ وقت نکال کر ان بچوں کو دیں ۔۔۔۔ زندگی کو اس زاویہ سے بھی دیکھیں- ایک ویڈیوڈاکیومینٹری ہے ۔۔۔ جو کہ ویب سائیٹ پر موجود ہے ۔۔۔

میں الفاظ میں ان بچوں کی حالت بیان نہیں کر پایا ۔۔۔ ان والدین کی آنکھوں میں جو امید کی لو ہوتی ہے ۔۔۔ اور جب وہ ہمیں اپنی دعاؤں سے نوازتے ہیں ۔۔۔۔ اس وقت سر جھک جاتا ہے ۔۔۔ تشکر ۔۔۔ حمد— اس ذات کی جس نے ہمیں یہ موقع دیا کہ ان بچوں کی مسکراہٹ کا سبب بن سکیں ۔۔۔۔ جنکے شور اور قہقہوں سے گھروں میں رونق ہوتی ہے ۔۔۔۔ انکی دعا سے ایسے لگتا ۔۔۔۔جیسے۔۔۔۔ سخت تپش میں کوئی ٹھنڈی پھوار پڑ رہی ہو ۔۔۔۔ جیسے محنت کی مزدوری مل رہی ہو ۔۔۔۔

Comming event

Sunday
25/03/2018

-90Days -21Hours -47Minutes -48Seconds